تنظیم کی اہمیت، قیادت کی خدمات، اور ہماری زمہ داریاں
*تنظیم کی اہمیت، قیادت کی خدمات اور ہماری ذمہ داریاں*
*طلبہ توحید والسنہ ضلع کوہاٹ کے لیے ایک دعوتِ فکر*
*تحریر: محمد بلال*
کسی بھی *دینی و علمی تنظیم* کی کامیابی صرف اس کے نام، *اجتماعات یا پروگراموں* سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے مخلص *قیادت*، *مسلسل محنت*، *باہمی تعاون* اور *کارکنوں کی ذمہ داری کا جذبہ* کارفرما ہوتا ہے۔ *طلبہ توحید والسنہ ضلع کوہاٹ* بھی ایک ایسی علمی و دینی تنظیم ہے، جس کا مقصد *طلبہ کو دینِ اسلام کی تعلیمات سے وابستہ رکھنا*، *ان کی علمی و تربیتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں دینی و اصلاحی سرگرمیوں کے لیے منظم کرنا ہے*۔
*قیادت کی محنت اور تنظیمی کارکردگی*
اس *تنظیم* کی موجودہ *قیادت* میں *امیر طلبہ توحید والسنہ ضلع کوہاٹ مولانا محمد طاہر طاہری صاحب*، *سرپرستِ اعلیٰ مولانا محمد یاسر گیلانی صاحب* اور *نائب سرپرست مولانا نعمت اللہ صاحب* کی *خدمات* اور کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ ان حضرات کی سرپرستی اور رہنمائی میں تنظیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے، طلبہ کو باہم مربوط رکھنے اور علمی و تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی کوششیں جاری ہیں۔
حالیہ *سالانہ تقریری مقابلہ و محفلِ حسنِ قرأت* بھی اسی تنظیمی محنت کا ایک نمایاں مظہر تھا، جس میں ضلع بھر کے مختلف مدارس کے طلبہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام نے طلبہ کو اپنی علمی، قرآنی اور خطابی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔ ایسے پروگرام اس بات کی علامت ہیں کہ تنظیم صرف ایک نام نہیں، بلکہ طلبہ کی دینی و علمی تربیت کے لیے عملی جدوجہد کا ذریعہ ہے۔
*تنظیم کی اہمیت*
اسلام نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد، تعاون اور اجتماعی نظم کی تعلیم دی ہے۔ *اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:*
*وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا*
*“اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”*
*(آل عمران: 103)*
*اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*
*الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا*
-“ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔”
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)*
ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہمی تعاون، اتحاد اور ایک دوسرے کو مضبوط کرنا دینی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ طلبہ کی تنظیم بھی اسی اجتماعی تعاون کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے، جہاں طلبہ ایک دوسرے سے علم حاصل کریں، نیکی کے کاموں میں تعاون کریں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔
*انفاق اور مالی تعاون:* *تنظیمی ذمہ داری کا اہم اصول*
قرآنِ کریم نے اجتماعی دینی زندگی میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی ہے۔ *اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:*
*وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ*
*“اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔”*
*(البقرۃ: 195)*
اسی طرح فرمایا:
*وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ*
*“اور تم اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے ہاں پاؤ گے۔”*
*(البقرۃ: 110)*
انفاق کا مطلب صرف بڑی رقم خرچ کرنا نہیں، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق خیر کے کاموں میں حصہ لینا بھی ہے۔ اس لیے ہر ساتھی کو چاہیے کہ وہ تنظیمی کاموں میں اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون کرے، تاکہ تنظیم کی علمی و تربیتی سرگرمیاں بہتر انداز میں جاری رہ سکیں۔
*حالیہ مقابلے کے اخراجات اور ہماری ذمہ داری*
حالیہ *سالانہ تقریری مقابلہ و محفلِ حسنِ قرأت* کے انعقاد میں تنظیم کو *خاصے مالی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے* اور *اس وقت تنظیم پر قرض بھی موجود ہے*۔ یہ بات ہم سب کے لیے توجہ اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔
*یہ تنظیم کسی ایک فرد یا چند افراد کی ذاتی تنظیم نہیں*، بلکہ ہم سب کی مشترکہ تنظیم ہے۔ اس لیے اس کے اخراجات اور ذمہ داریاں بھی صرف ایک شخص یا چند افراد تک محدود نہیں ہونی چاہییں۔ *ایک بندہ اپنی جیب سے پورا انتظام نہیں چلا سکتا*۔لہٰذا ہر *ساتھی* کو چاہیے کہ وہ *اپنی استطاعت کے مطابق تنظیم کے ساتھ تعاون کرے۔* کوئی ساتھی زیادہ تعاون کر سکتا ہے تو زیادہ کرے، اور جو کم استطاعت رکھتا ہے وہ اپنی وسعت کے مطابق حصہ ڈالے۔ اصل چیز رقم کی مقدار نہیں، بلکہ اخلاص، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی تعاون ہے۔
یہ تعاون صرف قرض کی ادائیگی کے لیے نہیں، بلکہ آئندہ علمی و تربیتی پروگراموں کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب ہر ساتھی اپنی ذمہ داری محسوس کرے گا تو تنظیمی کام کسی ایک فرد کے لیے بوجھ نہیں رہے گا، بلکہ سب کے لیے آسانی اور برکت کا ذریعہ بنے گا۔
*ہماری عملی ذمہ داریاں*
تنظیم کی کامیابی صرف *ذمہ داران کی محنت* سے ممکن نہیں، بلکہ *ہر رکن کی ذمہ داری* بھی اس میں شامل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:
تنظیم کے نظم و ضبط کا احترام کریں اور ذمہ داران کے ساتھ تعاون کریں۔
علمی و تربیتی پروگراموں میں اپنی استطاعت کے مطابق شرکت کریں۔
اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ *اخوت، محبت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں۔*
تنظیم کے مثبت مقاصد کو سمجھیں اور ان کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں۔
اپنی تعلیمی اور دینی ذمہ داریوں کو بھی مقدم رکھیں، کیونکہ ایک طالب علم کی اصل کامیابی علم، عمل اور اچھے اخلاق میں ہے۔
تنظیمی معاملات میں مشورہ، باہمی احترام اور اصلاح کے جذبے کو فروغ دیں۔
*جو طلبہ کسی ذمہ داری پر فائز ہیں، وہ اسے امانت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ ادا کریں*۔
تنظیم کے مالی معاملات میں اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کریں اور اخراجات و قرض کی ادائیگی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تنظیم کو محض ایک نام یا چند پروگراموں تک محدود نہ سمجھیں، بلکہ اسے علم، تربیت، اتحاد اور باہمی تعاون کا ذریعہ بنائیں۔ مولانا محمد طاہر طاہری صاحب، مولانا محمد یاسر گیلانی صاحب اور مولانا نعمت اللہ صاحب کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ *ہم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں* اور تنظیم کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
یہ ہم سب کی تنظیم ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے۔ ایک فرد کے لیے پورا بوجھ اٹھانا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن جب ہر ساتھی اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرے تو اجتماعی کام آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے حالیہ مقابلے کے اخراجات اور تنظیم پر موجود قرض کے سلسلے میں ہر ساتھی کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے تعاون کرے۔
*اللہ تعالیٰ ہمارے ذمہ داران کی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں اخلاص و استقامت عطا فرمائے، اور طلبہ توحید والسنہ ضلع کوہاٹ کو علم، عمل، اتحاد اور دینی خدمت کا مضبوط ذریعہ بنائے۔* *آمین۔*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں