شیخ القرآن مولانا محمد نظیف رحمۃ اللہ علیہ: ایک چراغ جو زمانے کو روشن کر گیا

 شیخ القرآن مولانا محمد نظیف رحمہ اللہ علیہ: ایک چراغ جو زمانے کو روشن کر گیا



تحریر: الطاف سمار وال


بسم اللہ الرحمن الرحیم

یاد رہے کہ اس تحریر کو آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ہم باقاعدہ اجازت حاصل کر چکے ہیں۔


ہم سب گروپ والوں کی طرف سے آپ تمام دوستوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔


آج ہمیں جس عظیم شخصیت کے بارے میں لکھنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ہمارے گاؤں کے معروف عالم دین، محترم اور قابلِ قدر شیخ القرآن مولانا محمد نظیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ذکرِ خیر ہم سب کے دلوں کو روشن کر رہا ہے۔ اگرچہ آپ کو ہم سے بچھڑے آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر آپ آج بھی ہمارے دلوں پر راج کرتے ہیں۔


علم کی پیاس، خدمت کا جذبہ


مولانا محمد نظیف رحمہ اللہ علیہ نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کراچی، کورنگی کے معروف دینی ادارے مدرسہ مظہرالعلوم سے کیا۔ ان کے استاد محترم کا نام مولانا عبدالغفور تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ مولانا نظیفؒ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی جاری رکھی۔ کراچی بندرگاہ (پورٹ) پر رات کی شفٹ میں محنت کرتے اور دن میں تعلیم حاصل کرنے مدرسہ جاتے۔ یہ آسان کام نہ تھا، لیکن علم کے شوق اور اخلاص نے آپ کو سالوں تک محنت کی راہ پر قائم رکھا۔


گاؤں میں اصلاحی جدوجہد


تعلیم مکمل کرنے کے بعد، آپ نے اپنے آبائی گاؤں سماری پایان میں آ کر دینی خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بدعات و شرکیہ رسومات کا غلبہ تھا، مگر مولاناؒ نے حق بات کہنے سے دریغ نہ کیا۔ ابتدا میں شدید مخالفت، سخت فتوے اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا — کسی نے کہا "وہابی ہیں"، تو کسی نے "نیا دین لے آئے"، حتیٰ کہ "امریکہ سے تنخواہ ملنے" تک کی باتیں کی گئیں (نعوذباللہ)۔ لیکن آپ نے ان سب باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھا۔


توحید و سنت کی روشنی


آج الحمدللہ! ہمارا گاؤں ان ہی کی محنت سے بدعات و شرک سے پاک ہے۔ گاؤں کی مساجد میں قرآنِ پاک کا ترجمے کے ساتھ درس ہوتا ہے، اور ہزاروں شاگرد آج ان کی تعلیمات سے فیضیاب ہو چکے ہیں۔ آپ نے مدرسہ دارالقرآن اشاعتِ توحید و سنت کی بنیاد رکھی، جو گاؤں کی مرکزی سڑک پر واقع ہے، اور آج بھی دینی تعلیم کا روشن مینار ہے۔


یتیموں سے محبت، سادگی کی مثال


مولاناؒ کی زندگی سادگی، عاجزی اور خدمت کا نمونہ تھی۔ یتیموں سے خاص محبت فرماتے تھے۔ اگر کوئی تحفہ آتا تو فوراً یتیم بچوں میں تقسیم کر دیتے۔ اپنی بیماری کے آخری ایام میں بھی آپ مدرسے کی تعمیر، طلبہ کی ضروریات اور تعلیم کے انتظامات میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔


ایک نمونۂ حیات


آپ کی زندگی ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ آپ کا صبر، عجز، توکل، ایثار، اور خالص دین کی خدمت کا جذبہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ایسی ہی زندگی اپنائیں — صبر، محبت، اور نیکی سے بھری ہوئی۔


دعائیہ کلمات


اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ

ہمارے استاد محترم، ہمارے والدین، عزیز و اقارب، اور تمام مرحومین مسلمانوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔


مختصر سوانح


پورا نام: محمد نظیف


والد کا نام: رحمت شاہ


تاریخِ پیدائش: 1924


بمقام: سماری پایان


تاریخِ وفات: 7 اگست 2017



شکریہ اور معذرت


اگر کسی جگہ کوئی غلطی ہو گئی ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں۔

یہ تحریر گروپ کی اجتماعی کوشش ہے، جس میں محمد شفیع بھائی، سید رحمان، عابد سیف اللہ صابر کا خصوصی تعاون شامل رہا۔ ہم ان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔


ایک بار پھر عرض ہے کہ اس تحریر کو باقاعدہ اجازت کے بعد





آپ کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ماہانہ اجلاس طلبہ توحید والسنہ ضلع کوہاٹ 14 اگست 2025